The True Story of a Man Who Lived with Wolves in Spain
اسپین میں بھیڑیوں کے ساتھ زندگی گزارنے والے شخص کی سچی داستان
ایک ایسے انسان کے بارے میں جو 12 سال بھیڑیوں کے ساتھ رہا؟پآج ہم آپ کو ایک ایسے شخص کی حیران کن اور سچی داستان سنانے جا رہے ہیں، جس نے اپنے بچپن کے 12 سال انسانوں سے دور، جنگل میں بھیڑیوں کے غول کے ساتھ گزارے۔ ایک ایسی کہانی جو کسی فلمی اسکرپٹ سے کم نہیں، لیکن بالکل سچی ہے!
Drink to your curiosity: "The wolf boy of the Sierra Morena
اسپین کے دور افتادہ پہاڑوں میں بھیڑیوں کے غول کے ساتھ اپنے بچپن کے 12 سال گزارنے والے مارکوس روڈریگیز پانتوخا، جنہیں دنیا بھر میں ’سیرا مورینا کا بھیڑیا لڑکا‘ کہا جاتا تھا، 80 برس کی عمر میں اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے۔
مارکوس کی زندگی انتہائی غربت، محرومی اور تنہائی سے شروع ہوئی۔ وہ انسانی معاشرے کی بے حسی اور سوتیلی ماں کی بدسلوکی سے تنگ آ کر سیرا مورینا کے گھنے جنگلات میں جا پہنچے، جہاں بالآخر جانوروں بالخصوص بھیڑیوں نے انہیں اپنے غول میں شامل کر لیا۔
غربت سے جنگل تک کا دردناک سفر
مارکوس 1946 میں اسپین کے ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئے۔ یہ وہ وقت تھا جب اسپین خانہ جنگی اور دوسری عالمی جنگ کے تباہ کن اثرات سے نمٹ رہا تھا۔ والدہ کی وفات کے بعد ان کے والد نے دوسری شادی کی اور پورے خاندان کے ساتھ سیرا مورینا کے پہاڑی علاقے میں منتقل ہو گئے، جہاں وہ لکڑی سے کوئلہ بنانے کا کام کرتے تھے۔
سوتیلی ماں کی شدید بدسلوکی اور تشدد کے باعث، صرف سات برس کی عمر میں مارکوس کو ایک عمر رسیدہ بکری بان (چرواہے) کے حوالے کر دیا گیا۔ وہ چرواہا انہیں پہاڑوں میں واقع ایک غار میں لے گیا اور یوں ایک ننھے بچے کی زندگی انسانی دنیا سے منقطع ہو کر جنگل کی خاموش اور پراسرار دنیا میں داخل ہو گئی۔
جب جنگلی جانور ہی مارکوس کے استاد بن گئے
اس بوڑھے چرواہے نے مارکوس کو جنگل میں زندہ رہنے کے بنیادی گر سکھائے، جیسے کہ بکریوں کا دودھ نکالنا، خرگوش پکڑنا اور جانوروں کی کھال سے جسم کو ڈھانپ کر شدید سردی سے بچنا۔ لیکن کچھ ہی عرصے بعد وہ چرواہا پراسرار طور پر غائب ہو گیا اور ننھا مارکوس بالکل اکیلا رہ گیا۔
اس تنہائی میں مارکوس نے اپنی بقا کے لیے وہی تمام ہنر استعمال کیے۔ کچھ عرصے بعد بھیڑیوں کے غول سے ان کی قربت بڑھی۔ وہ بھیڑیوں کے بچوں کے لیے خوراک کا انتظام کرتے اور بھیڑیوں کی طرح آوازیں نکالتے۔ آہستہ آہستہ ایک بھیڑیوں کے غول نے انہیں اپنے خاندان کے فرد کے طور پر قبول کر لیا۔
مارکوس پرندوں، ہرنوں، لومڑیوں اور بھیڑیوں کی آوازوں کی بالکل درست نقل اتارتے تھے۔ ان کے مطابق وہ جنگلی جانوروں کے ساتھ اس قدر مانوس ہو چکے تھے کہ ان کی زبان اور اشاروں کو باآسانی سمجھ سکتے تھے۔
انسانوں کے بجائے بھیڑیوں پر زیادہ اعتماد
مارکوس کے مطابق جنگل میں انہیں کبھی خوراک کی کمی محسوس نہیں ہوئی۔ جب مچھلی کی ضرورت ہوتی تو ندی سے پکڑ لیتے اور جب گوشت کی خواہش ہوتی تو شکار کر لیتے تھے۔ وہ انسانی معاشرے سے اس قدر خوفزدہ اور دور ہو چکے تھے کہ جب کبھی انسانوں کی آوازیں سنائی دیتیں، تو وہ فوری طور پر جھاڑیوں اور غاروں میں چھپ جاتے۔
تہذیب میں واپسی: ایک کٹھن امتحان
تقریباً 19 برس کی عمر تک مارکوس اسی وحشیانہ مگر امن پسند ماحول میں رہے، یہاں تک کہ 1965 میں اسپین کی سول گارڈ نے انہیں پہاڑوں سے ڈھونڈ نکالا۔
انسانی معاشرے میں واپسی ان کے لیے ایک نیا امتحان تھی۔ وہ انسانی زبان بولنا تقریباً بھول چکے تھے، جدید دنیا کے اصولوں اور اشیاء کے ناموں سے ناواقف تھے اور ان کا اٹھنا بیٹھنا بالکل جانوروں جیسا تھا۔ پہلے انہوں نے ایک پادری کے پاس وقت گزارا، پھر میڈرڈ میں راہبات کی دیکھ بھال میں رہے۔ فوجی سروس کے بعد وہ مالورکا چلے گئے اور ریستورانوں میں کام کیا۔
اس دوران ماہر بشریات گیبریئل خانیئر مانیلا نے مارکوس سے ملاقات کی اور ان کی حیرت انگیز داستان پر تفصیلی تحقیق کر کے اسے دنیا کے سامنے پیش کیا۔
ایک سچی کہانی جس پر کتاب اور فلم بنی
مارکوس کی غیر معمولی داستان پر ایک کتاب 'I Played with Wolves' شائع ہوئی اور ان کی زندگی پر مبنی ایک مشہور فلم 'Among Wolves' بھی بنائی گئی۔ اپنی زندگی کے آخری ایام تک وہ لوگوں کو فطرت اور جانوروں کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کرتے رہے۔
رانتے میں آخری دن
سال 2001 میں مارکوس اسپین کے علاقے رانتے منتقل ہوئے اور وہاں اپنی زندگی کا آخری حصہ گزارا۔ مقامی لوگوں نے بیماری اور بڑھاپے میں ان کا بے حد خیال رکھا۔ پچھلے ہفتے 80 برس کی عمر میں وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ مقامی حکومت نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مارکوس ایک ایسی تاریخی اور یادگار داستان چھوڑ گئے ہیں جسے دنیا ہمیشہ یاد رکھے گی۔
تبصرے